ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ترکی آئندہ 6ماہ میں شام میں زیادہ فعال کردار ادا کرے گا:بن علی یلدرم

ترکی آئندہ 6ماہ میں شام میں زیادہ فعال کردار ادا کرے گا:بن علی یلدرم

Sun, 21 Aug 2016 18:21:55    S.O. News Service

بشارالاسد کا عبوری بندوبست میں تو کردار ہوسکتا ہے لیکن ملک کے مستقبل میں نہیں ہونا چاہیے

استنبول21اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ترک وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ ان کا ملک آیندہ چھے ماہ کے دوران جنگ زدہ شام میں زیادہ فعال کردار ادا کرے گا تاکہ اس ملک کو نسلی بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچایا جاسکے۔وہ ہفتے کے روز استنبول میں صحافیوں کے ایک گروپ سے گفتگو کر رہے تھے۔انھوں نے کہا کہ شامی صدر بشارالاسد کا عبوری بندوبست میں تو کردار ہوسکتا ہے لیکن مستقبل میں ان کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ''ہم ایک علاقائی کھلاڑی ہونے کے ناتے آیندہ چھے ماہ کے دوران میں شامی تنازعے کے معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کریں گے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ شام کو کسی نسلی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ ترکی کے لیے یہ معاملہ بہت اہم ہے۔ترک وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ایران ،خلیجی عرب ریاستیں ،روس اور امریکا مل جل کر شام میں جاری تنازعے کا کوئی حل تلاش کرسکتے ہیں۔شام میں گذشتہ پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جاری خانہ جنگی کے دوران فرقہ وارانہ بنیاد پر تو پہلے ہی خونریزی ہورہی ہے لیکن اس نے اب نسلی رُخ بھی اختیارکرلیا ہے اور شام کے کرد گروپوں نے کچھ عرصہ پہلے اپنے زیر قبضہ علاقوں کی خود مختاری کا اعلان کردیا تھا اور اب وہ مفتوح ہونے والے کرداکثریتی قصبوں اور شہروں کو اس میں شامل کررہے ہیں۔ان کی گاہے گاہے صدربشارالاسدکواقتدارسے نکال باہر کرنے کے لیے لڑنے والے شامی عرب باغیوں سے بھی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔ترکی کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ شام میں کرد جنگجو گروپوں کے مضبوط ہونے سے اس کے اپنے جنوب مشرقی علاقوں میں مسلح بغاوت برپا کرنے والے کرد علاحدگی پسند جنگجو مضبوط ہوسکتے ہیں۔کرد باغیوں نے گذشتہ سال جولائی میں حکومت کے ساتھ ڈھائی سال سے جاری جنگ بندی کا معاہدہ توڑ دیا تھا اور وہ تب سے ترک سکیورٹی فورسز پر حملے کررہے ہیں۔شامی حکومت کے لڑاکاطیاروٓں نے جمعے کے روز الحسکہ شہر پر کرد جنگجوؤں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے تھے جس کے بعد کرد حکام نے شہریوں کا انخلاء کیاتھا۔الحسکہ دو حصوں میں منقسم ہے۔اس کے ایک حصے پر کرد جنگجوؤں اور دوسرے حصے پر شامی حکومت کا کنٹرول ہے۔شامی طیاروں نے خانہ جنگی کے دوران کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) کے ٹھکانوں پر پہلی مرتبہ شدید بمباری کی ہے۔اس سے پہلے کرد جنگجوؤں اور شامی حکومت کی وفادار فورسز کے درمیان اس طرح کی مسلح محاذ آرائی کم ہی ہوئی ہے اور وہ ایک دوسرے پر حملوں سے گریز کرتے رہے ہیں لیکن کرد جنگجو گروپوں نے شہروں اور علاقوں پرریاستی کنٹرول کی گرفت کمزورپڑنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرد اکثریتی شہروں میں اپنی عمل داری قائم کر لی تھی۔


Share: